
یہ گفتگو انگریزی سے اردو میں ترجمہ کی گئی ہے اور تصویروں یا ویڈیوز کے ذریعے ہونے والی ہراسانی سے متعلق وہ سچائیاں بیان کرتی ہے جو آپ کے شفا کے سفر میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔ آپ اس سیشن کو تحریری شکل میں پڑھ سکتی ہیں یا آڈیو سن سکتی ہیں — تقریباً ۳۵ سے ۴۵ منٹ کا سیشن ہے۔
“آپ کا کوئی قصور نہیں”
میرا نام امنہ ہے اور میرے ساتھ ہیں سارہ
اس سیشن میں ہم بات کریں گے کہ تصویروں یا ویڈیوز کے ذریعے ہراسانی کیا ہوتی ہے اور پاکستانی لوگوں یا بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں پر اس کا کیا اثر پڑ سکتا ہے۔
ہم یہ بھی سمجھیں گے کہ کون سی صورتحال کو تصویری یا ویڈیو ہراسانی کہا جاتا ہے، یہ آپ کی غلطی کیوں نہیں ہوتی، اور کون سی اہم باتیں آپ کی مدد اور شفا کے سفر میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔
میزبان 1:
آج ہمارے ساتھ شامل ہونے کا شکریہ۔ یہ سیشن چین (Chayn) کی طرف سے تیار کیا گیا ہے۔ چین ایک خیراتی ادارہ ہے جو دنیا بھر میں صنفی تشدد کا شکار افراد کی مدد کرتا ہے۔
ہم نے 2013 میں پاکستان میں کام شروع کیا تھا اور اب دنیا بھر میں لوگوں تک پہنچ رہے ہیں۔ ہم کافی عرصے سے ٹیکنالوجی کے ذریعے ہونے والی ہراسانی پر کام کر رہے ہیں۔
گزشتہ سال ہم نے پاکستان میں خواتین، gender minorities رکھنے والے افراد اور بیرون ملک رہنے والے پاکستانیوں کے تجربات پر تحقیق کی۔ اگرچہ یہ تحقیق پاکستان کے بارے میں تھی، لیکن ہمیں معلوم ہوا کہ جنوبی ایشیا کے بہت سے لوگوں کے تجربات ایک جیسے ہیں۔
میزبان 2:
ہم خوش ہیں کہ آپ یہ سیشن سن رہے ہیں۔ ہم جانتے ہیں کہ تصویروں یا ویڈیوز کے ذریعے ہونے والی ہراسانی کے بارے میں بات کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
لیکن سب سے پہلے ہم آپ کو یہ بتانا چاہتے ہیں:
“جو کچھ آپ کے ساتھ ہوا، وہ آپ کی غلطی نہیں تھی۔”
آج ہم ان تمام صورتوں کے بارے میں بات کریں گے جن میں کوئی شخص آپ کی تصویر یا ویڈیو آپ کی اجازت کے بغیر شیئر کرتا ہے، یا ایسا کرنے کی دھمکی دیتا ہے۔
میزبان 1:
اس سیشن میں ہم یہ بھی بات کریں گے کہ ایسی ہراسانی انسان کے جذبات اور ذہنی صحت پر کیسے اثر ڈال سکتی ہے۔ اگر یہ باتیں آپ کو پریشان کریں تو وقفہ لینا بالکل ٹھیک ہے۔
آپ جب چاہیں آرام کر سکتی ہیں اور جب بہتر محسوس کریں تو دوبارہ سن سکتی ہیں۔ آپ کی صحت سب سے اہم ہے۔
میزبان 2:
آئیے چند سوالات پر غور کرتے ہیں:
• ہماری کمیونٹی میں تصویروں یا ویڈیوز کے ذریعے ہراسانی کیسی نظر آتی ہے؟
• یہ ہمیں اور ہمارے خاندانوں کو کیسے متاثر کرتی ہے؟
• اگر یہ ہمارے ساتھ ہو جائے تو ہم خود سے کیا سوال پوچھتے ہیں؟
• ہم ایک دوسرے کی مدد کیسے کر سکتے ہیں؟
• مدد کہاں سے حاصل کی جا سکتی ہے؟
• کون سی باتیں ہمیں شفا اور حوصلہ دے سکتی ہیں؟
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ تصویروں یا ویڈیوز کے ذریعے ہراسانی صرف برہنہ یا جنسی نوعیت کی تصاویر تک محدود نہیں ہوتی۔
بہت سے لوگ سمجھتے ہیں کہ صرف ایسی تصاویر ہی نقصان پہنچا سکتی ہیں، لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ وسیع ہے۔
ہماری ثقافت میں اکثر خواتین کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ وہ اپنے لباس، رویے اور تصاویر کے بارے میں بہت محتاط رہیں۔
مثلاً:
• کپڑے کیسے ہیں؟
• دوپٹہ لیا ہوا ہے یا نہیں؟
• تصویر کس کے ساتھ ہے؟
• لوگ کیا کہیں گے؟
کبھی کبھی ایسا لگتا ہے جیسے ہر وقت کوئی ہمیں دیکھ رہا ہے اور فیصلہ کر رہا ہے۔
اس وجہ سے اکثر خواتین خود کو قصوروار سمجھنے لگتی ہیں، حالانکہ حقیقت میں قصور ان کا نہیں ہوتا۔
میزبان 1:
ہر خاندان اور کمیونٹی کے اپنے اصول ہوتے ہیں۔
کبھی کسی شادی، تقریب، پارٹی، دوستوں کی محفل یا گھر کے ماحول میں لی گئی تصویر بھی مسئلہ بن سکتی ہے۔
یہ ضروری نہیں کہ تصویر نامناسب ہو۔
میزبان 2:
کبھی کبھی اصل تصویر بھی استعمال نہیں کی جاتی۔
لوگ:
• چیٹ کے اسکرین شاٹس شیئر کرتے ہیں۔
• تصاویر میں جھوٹے کیپشن لگا دیتے ہیں۔
• تصاویر کو ایڈٹ کر دیتے ہیں۔
• جھوٹی کہانیاں بنا دیتے ہیں۔
اس طرح ایک عام تصویر کو بھی نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
میزبان 1:
سب سے اہم بات یہ ہے:
کسی تصویر کو نجی یا حساس بنانے والی چیز تصویر کا مواد نہیں، بلکہ آپ کی رضامندی (Consent) ہے۔
اگر آپ نے تصویر صرف ایک شخص کو بھیجی تھی اور اس نے آپ کی اجازت کے بغیر دوسروں کو دکھا دی، تو یہ آپ کے اعتماد اور رضامندی کی خلاف ورزی ہے۔
چاہے تصویر میں کوئی برہنگی نہ ہو، پھر بھی یہ غلط ہے۔
اگر کسی نے:
• آپ کی تصویر بغیر اجازت شیئر کی،
• شیئر کرنے کی دھمکی دی،
• یا آپ کو نقصان پہنچانے کے لیے استعمال کی،
تو یہ تصویری یا ویڈیو ہراسانی کہلاتی ہے۔
میزبان 1:
ہم جانتے ہیں کہ رضامندی (Consent) کے بارے میں لوگوں کی سمجھ مختلف ہو سکتی ہے، اور اس میں شرمندگی کی کوئی بات نہیں۔
ہماری ثقافت میں رضامندی اور ذاتی حدود (Boundaries) کے بارے میں بہت کم بات کی جاتی ہے۔ اکثر لڑکیوں کو یہ پیغام دیا جاتا ہے کہ اگر ان کے ساتھ کچھ غلط ہو تو شاید اس کی وجہ ان کے کپڑے، رویہ یا موجودگی تھی۔
لیکن ہم یہ بات واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں:
“تصویر یا ویڈیو کی بنیاد پر ہونے والی ہراسانی آپ کی غلطی نہیں ہے۔”
آپ نے اس کی دعوت نہیں دی تھی۔
آپ اس کے مستحق نہیں تھیں۔
میزبان 2:
تو رضامندی (Consent) کیا ہے؟
رضامندی کا مطلب ہے کسی کام کی اجازت آزادانہ طور پر دینا۔
اس میں:
• دباؤ نہ ہو
• دھمکی نہ ہو
• ڈر نہ ہو
• زبردستی نہ ہو
• دھوکہ نہ ہو
رضامندی صرف اسی وقت درست ہوتی ہے جب انسان پوری طرح سمجھ رہا ہو کہ کیا ہو رہا ہے۔
اگر کوئی شخص:
• نشے میں ہو،
• بے ہوش ہو،
• شدید دباؤ میں ہو،
تو وہ حقیقی رضامندی نہیں دے سکتا۔
مثال کے طور پر:
اگر کسی نے شادی میں رقص کرتے ہوئے، دوستوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے، یا گھر میں آرام کرتے ہوئے آپ کی تصویر بغیر پوچھے لے لی، تو آپ نے اس کی اجازت نہیں دی تھی۔
رضامندی مخصوص ہوتی ہے۔
اگر آپ نے ایک چیز کی اجازت دی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ نے ہر چیز کی اجازت دے دی ہے۔
مثال:
اگر آپ نے اپنی منگیتر یا شوہر کو کچھ تصاویر بھیجی ہیں، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ انہیں اپنے دوستوں یا کسی اور کے ساتھ شیئر کر سکتے ہیں۔
میزبان 1:
رضامندی کسی بھی وقت واپس لی جا سکتی ہے۔
اگر آپ نے پہلے “ہاں” کہا تھا، تو بعد میں “نہیں” کہنے کا بھی حق رکھتی ہیں۔
مثال کے طور پر:
اگر کوئی ماڈل فوٹو شوٹ کے لیے تصاویر لینے کی اجازت دیتا ہے، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ فوٹوگرافر ان تصاویر کو ہر جگہ اور ہر مقصد کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
رضامندی کا مطلب ہے کہ آپ کو مکمل طور پر معلوم ہو:
• کیا ہو رہا ہے؟
• تصویر کہاں استعمال ہوگی؟
• کس مقصد کے لیے استعمال ہوگی؟
میزبان 2:
جب کوئی شخص اپنی طاقت یا اختیار کا غلط استعمال کرتا ہے تو رضامندی آزادانہ نہیں رہتی۔
مثال کے طور پر:
• باس (Boss)
• استاد
• کوئی بڑا رشتہ دار
• یا کوئی ایسا شخص جس کے پاس اختیار ہو
اگر وہ اپنے عہدے یا طاقت کا فائدہ اٹھا کر آپ پر دباؤ ڈالے، تو اسے حقیقی رضامندی نہیں کہا جا سکتا۔
میزبان 1:
خاموشی رضامندی نہیں ہوتی۔
اگر کوئی شخص کچھ نہ کہے تو اس کا مطلب “ہاں” نہیں ہے۔
آن لائن دنیا میں بھی آپ اتنی ہی عزت، حفاظت اور پرائیویسی کی حقدار ہیں جتنی حقیقی زندگی میں۔
یاد رکھیں:
“ہر انسان کو اپنی تصویر اور اپنی شناخت پر حق حاصل ہے، اور کوئی بھی یہ حق آپ سے نہیں چھین سکتا۔”
میزبان 1:
تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اکثر تصویری یا ویڈیو ہراسانی ایسے لوگوں کی طرف سے ہوتی ہے جن کا کبھی متاثرہ شخص کے ساتھ قریبی تعلق رہا ہو۔
مثال کے طور پر:
• شوہر یا بیوی
• منگیتر
• بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ
• سابق شریکِ حیات
• سابق پارٹنر
کبھی کبھی تعلق ختم ہونے کے بعد یہ لوگ تصاویر یا ویڈیوز کو دھمکی، کنٹرول یا انتقام کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
میزبان 2:
لیکن یہ صرف رومانوی تعلقات تک محدود نہیں ہے۔
ہراسانی کرنے والا کوئی بھی ہو سکتا ہے:
• ساتھی کارکن
• پڑوسی
• رشتہ دار
• کزن
• سابق دوست
• سسرالی رشتہ دار
• یا مکمل اجنبی شخص
ہماری سوسائٹی میں اکثر عورتوں پر شادی برقرار رکھنے اور خاندان کی عزت بچانے کا دباؤ ہوتا ہے۔
کبھی کبھی عورتوں کو دھمکی دی جاتی ہے:
“اگر تم نے رشتہ ختم کیا یا گھر چھوڑا تو ہم تمہاری تصاویر شیئر کر دیں گے۔”
اس خوف کی وجہ سے بعض خواتین:
• خاموش رہتی ہیں
• مدد نہیں مانگتیں
• طلاق یا علیحدگی کا فیصلہ نہیں کر پاتیں
• اپنے خاندان کو بھی کچھ نہیں بتاتیں
اور اگر بتائیں بھی تو بعض اوقات انہیں خاموش رہنے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔
میزبان 1:
کبھی کبھی ہراسانی کرنے والا مکمل طور پر نامعلوم شخص بھی ہوتا ہے۔
مثلاً:
• کسی نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ ہیک کر لیا
• کسی نے تصاویر چرا لیں
• کسی نے نامعلوم نمبر سے بلیک میل کرنا شروع کر دیا
بعض لوگ جعلی تصاویر بھی بناتے ہیں جنہیں “ڈیپ فیک” (Deepfake) کہا جاتا ہے۔
یہ ایسی تصاویر یا ویڈیوز ہوتی ہیں جو حقیقت میں کبھی بنی ہی نہیں ہوتیں لیکن دیکھنے میں بالکل اصلی لگتی ہیں۔
میزبان 2:
سوشل میڈیا اور واٹس ایپ کی وجہ سے تصاویر کو بہت تیزی سے پھیلایا جا سکتا ہے۔
یہ خاص طور پر ان معاشروں میں زیادہ نقصان دہ ہو سکتا ہے جہاں عزت، پردہ اور ساکھ کو بہت اہم سمجھا جاتا ہے۔
چاہے تصویر جعلی ہی کیوں نہ ہو، لوگ اسے سچ مان سکتے ہیں۔
کبھی کبھی صرف افواہ بھی کسی شخص کی زندگی پر بہت برا اثر ڈال سکتی ہے۔
کچھ متاثرہ لوگ کئی سال تک بلیک میلرز کو پیسے دیتے رہتے ہیں کیونکہ انہیں ڈر ہوتا ہے کہ کہیں تصاویر یا ویڈیوز پھیل نہ جائیں۔
میزبان 1:
اکثر لوگ کہتے ہیں:
• “تمہیں زیادہ سمجھدار ہونا چاہیے تھا۔”
• “تم نے اس شخص پر بھروسہ کیوں کیا؟”
لیکن یہ باتیں درست نہیں ہیں۔
کوئی بھی شخص دھوکہ دے سکتا ہے یا ہراسانی کر سکتا ہے۔
میزبان 2:
چاہے وہ کوئی ایسا شخص ہو جس سے آپ محبت کرتی تھیں، جس پر آپ اعتماد کرتی تھیں، یا کوئی خاندان کا فرد ہو۔
ہراسانی کرنا اس شخص کا اپنا فیصلہ ہوتا ہے۔
یہ کبھی بھی آپ کی غلطی نہیں ہوتی۔
میزبان 1:
تو لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں؟
میزبان 2:
تصویر یا ویڈیو کی بنیاد پر ہراسانی کا مقصد عام طور پر یہ ہوتا ہے:
• کسی کو ڈرانا
• خاموش کرنا
• شرمندہ کرنا
• بدنام کرنا
• کنٹرول کرنا
• پیسے بٹورنا (بلیک میلنگ)
• یا انتقام لینا
بعض لوگ طاقت حاصل کرنے یا دوسروں پر اپنا اثر قائم رکھنے کے لیے بھی ایسا کرتے ہیں۔
یہ سب زیادتی کی شکلیں ہیں اور ان کی ذمہ داری صرف ہراسانی کرنے والے شخص پر ہوتی ہے، متاثرہ شخص پر نہیں۔
میزبان 1:
تصویروں یا ویڈیوز کے ذریعے ہراسانی اکثر اس سوچ سے جڑی ہوتی ہے کہ مردوں کو خواتین پر اختیار حاصل ہے اور وہ ان کی زندگی یا فیصلوں کو کنٹرول کر سکتے ہیں۔
بعض لوگ عورتوں کی عزت، شہرت اور خاندان کے نام کو ان کے خلاف ہتھیار کے طور پر استعمال کرتے ہیں۔
میزبان 2:
ہراسانی کرنے والے اکثر یہ سمجھتے ہیں کہ انہیں حق حاصل ہے کہ وہ کسی کی تصاویر کو استعمال کر کے:
• پیسے حاصل کریں
• طاقت حاصل کریں
• بدلہ لیں
• کسی کو خاموش کریں
• کسی پر کنٹرول قائم رکھیں
• یا اسے اور اس کے خاندان کو شرمندہ کریں
لیکن یہ یاد رکھنا ضروری ہے:
یہ سب ان کا اپنا انتخاب ہوتا ہے۔
آپ نے کچھ غلط نہیں کیا۔
آپ کو شرمندہ ہونے کی ضرورت نہیں۔
میزبان 1:
اب تھوڑا رک کر سانس لیتے ہیں۔
ہم نے بات کی کہ تصویری یا ویڈیو ہراسانی کیا ہے اور لوگ ایسا کیوں کرتے ہیں۔
یہ موضوع مشکل ہو سکتا ہے، اس لیے اپنے جسم اور ذہن کا خیال رکھنا ضروری ہے۔
ایک گہری سانس لیں۔
چار تک گن کر سانس اندر لیں۔
1… 2… 3… 4…
سانس روکیں۔
1… 2… 3… 4…
پھر آہستہ آہستہ سانس باہر نکالیں۔
1… 2… 3… 4…
میزبان 2:
اب ہم بات کریں گے کہ اس قسم کی ہراسانی متاثرہ لوگوں کی زندگی پر کیا اثر ڈالتی ہے۔
یہ سننا مشکل ہو سکتا ہے، لیکن حقیقت کو سمجھنا ضروری ہے۔
میزبان 1:
پاکستانی خاندانوں اور کمیونٹیوں میں اس قسم کی ہراسانی کے نتائج بہت سنگین ہو سکتے ہیں۔
متاثرہ شخص کو:
• خاندان کے جھگڑوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
• اپنی ساکھ کو نقصان پہنچ سکتا ہے
• برادری سے دور کر دیا جا سکتا ہے
• دوستوں سے ملنے سے روکا جا سکتا ہے
• فون یا انٹرنیٹ استعمال کرنے سے منع کیا جا سکتا ہے
• تعلیم یا ملازمت چھوڑنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے
• زبردستی شادی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے
اور بعض انتہائی صورتوں میں تشدد یا جان کا خطرہ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
کچھ خواتین جو بیرونِ ملک رہتی ہیں، انہیں واپس پاکستان بھیجنے کی دھمکیاں بھی دی جاتی ہیں تاکہ وہ اپنے سپورٹ سسٹم سے دور ہو جائیں۔
میزبان 2:
بہت سی خواتین اس خوف کی وجہ سے کسی کو کچھ نہیں بتاتیں۔
انہیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر خاندان کو معلوم ہو گیا تو:
• انہیں گھر سے نکلنے نہیں دیا جائے گا
• فون لے لیا جائے گا
• دوستوں سے ملنے نہیں دیا جائے گا
• یا ان کی آزادی محدود کر دی جائے گی
یہ ضروری نہیں کہ ہر خاندان ایسا کرے، لیکن بہت سی خواتین کو یہ خوف ضرور ہوتا ہے۔
میزبان 1:
اسی لیے ہم بار بار یہ کہتے ہیں:
آپ کی حفاظت اور آپ کی بھلائی سب سے اہم ہے۔
اگر آپ کسی مشکل صورتحال میں ہیں تو مدد حاصل کرنا بالکل درست ہے۔
آپ اکیلی نہیں ہیں، اور آپ جو محسوس کر رہی ہیں وہ بالکل حقیقی اور اہم ہے۔
میزبان 1:
یہ سب سن کر ڈر اور پریشانی محسوس ہونا بالکل فطری بات ہے۔
بہت سی کمیونٹیز میں عزت اور شرم کو پورے خاندان سے جوڑ دیا جاتا ہے۔
اسی وجہ سے جب کسی عورت کے ساتھ کچھ ہوتا ہے تو اکثر پورا خاندان متاثر ہوتا ہے۔
بدقسمتی سے اس صورتحال کا زیادہ بوجھ عموماً عورت پر ڈال دیا جاتا ہے، چاہے اس کی کوئی غلطی نہ ہو۔
لوگ:
• افواہیں پھیلا سکتے ہیں
• فاصلے بنا سکتے ہیں
• مختلف رویہ اختیار کر سکتے ہیں
• متاثرہ شخص کو قصوروار ٹھہرا سکتے ہیں
میزبان 2:
لیکن دوسروں کے رویے کے علاوہ ایک اور مشکل چیز بھی ہوتی ہے۔
بہت سے لوگ اپنے آپ کو قصوروار سمجھنے لگتے ہیں۔
وہ سوچتے ہیں:
• “یہ میری غلطی تھی”
• “مجھے زیادہ محتاط ہونا چاہیے تھا”
• “میں نے اپنے خاندان کو شرمندہ کر دیا”
لیکن حقیقت یہ نہیں ہے۔
آپ نے کسی پر اعتماد کیا، زندگی گزاری، دوست بنائے یا خوش رہنے کی کوشش کی — یہ غلطی نہیں ہے۔
میزبان 1:
جب لوگ آپ پر یقین نہ کریں یا آپ کو وہ تحفظ نہ ملے جس کی آپ کو ضرورت تھی، تو یہ بہت تکلیف دہ ہو سکتا ہے۔
لیکن آپ اس بات کی مستحق ہیں کہ:
• لوگ آپ پر یقین کریں
• آپ کو قصوروار نہ ٹھہرائیں
• آپ کو تحفظ دیں
• آپ کا ساتھ دیں
میزبان 2:
شرمندگی اس شخص کو ہونی چاہیے جس نے آپ کی پرائیویسی اور رضامندی کی خلاف ورزی کی۔
آپ کو نہیں۔
میزبان 1:
تصویری یا ویڈیو ہراسانی بہت سے مشکل جذبات پیدا کر سکتی ہے۔
کبھی کبھی صرف یہ جان لینا کہ دوسرے لوگ بھی یہی احساسات محسوس کرتے ہیں، مددگار ثابت ہوتا ہے۔
میزبان 2:
آپ کو خوف محسوس ہو سکتا ہے۔
مثلاً:
• لوگ جان جائیں گے
• تصاویر دوبارہ سامنے آ جائیں گی
• کوئی آپ کو پہچان لے گا
یہ خوف جسم پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔
مثال کے طور پر:
• فون بجتے ہی دل گھبرانا
• تصاویر بنتی دیکھ کر پریشانی ہونا
• دل کی دھڑکن تیز ہو جانا
میزبان 1:
آپ شرمندگی یا جرم کا احساس بھی محسوس کر سکتی ہیں، حالانکہ آپ کی کوئی غلطی نہیں ہوتی۔
اکثر یہ احساسات ان باتوں کی وجہ سے پیدا ہوتے ہیں جو معاشرہ متاثرہ شخص کے بارے میں کہتا ہے۔
میزبان 2:
آپ کو دھوکے کا احساس بھی ہو سکتا ہے:
• اس شخص سے جس نے تصاویر شیئر کیں
• خاندان سے جس نے ساتھ نہیں دیا
• یا ان اداروں سے جنہوں نے مدد نہیں کی
آپ غصہ بھی محسوس کر سکتی ہیں۔
ہراسانی کرنے والے شخص پر، ناانصافی پر، یا اس پوری صورتحال پر۔
میزبان 1:
یہ تمام جذبات بالکل جائز ہیں۔
ایسا کوئی ایک “صحیح” طریقہ نہیں ہے جس سے ہر شخص ہراسانی کے بعد محسوس کرے۔
ہر شخص کا ردِعمل مختلف ہو سکتا ہے، اور یہ بالکل نارمل بات ہے۔
میزبان 1:
ہم یہ بھی تسلیم کرنا چاہتے ہیں کہ کچھ لوگوں کو دوسروں کی نسبت زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
میزبان 2:
مثال کے طور پر:
• ہم جنس پرست خواتین
• ٹرانس خواتین
• اور وہ لوگ جو صنفی لحاظ سے روایتی توقعات سے مختلف زندگی گزارتے ہیں
انہیں اکثر خاص طور پر نشانہ بنایا جاتا ہے۔
انہیں دھمکی دی جا سکتی ہے کہ ان کی شناخت یا ذاتی معلومات دوسروں کو بتا دی جائیں گی۔
کچھ ممالک اور معاشروں میں اس کے نتیجے میں انہیں مزید تشدد، امتیازی سلوک یا قانونی مسائل کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
میزبان 1:
ایسی صورتحال میں بعض اوقات پولیس یا سرکاری ادارے بھی محفوظ محسوس نہیں ہوتے۔
مدد مانگنا مشکل اور خطرناک لگ سکتا ہے۔
یہ بہت تکلیف دہ بات ہے کیونکہ ہر شخص کو محفوظ مدد ملنی چاہیے۔
میزبان 2:
نوجوان خواتین کو بھی زیادہ خطرات کا سامنا ہو سکتا ہے۔
بعض اوقات انہیں:
• دھوکے سے قابو میں کیا جاتا ہے
• بلیک میل کیا جاتا ہے
• ڈرایا دھمکایا جاتا ہے
اور انہیں لگتا ہے کہ ان کے پاس مدد لینے کے لیے کوئی محفوظ جگہ نہیں ہے۔
میزبان 1:
دیہاتی علاقوں یا بہت زیادہ روایتی ماحول میں رہنے والی خواتین کو بھی زیادہ مشکلات پیش آ سکتی ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ:
• سماجی دباؤ زیادہ ہو سکتا ہے
• انصاف تک رسائی محدود ہو سکتی ہے
• مدد حاصل کرنا مشکل ہو سکتا ہے
پاکستان میں بعض مذہبی یا سماجی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو اضافی خطرات کا سامنا بھی ہو سکتا ہے۔
کبھی کبھی صرف ایک الزام یا افواہ بھی کسی شخص کی جان کو خطرے میں ڈال سکتی ہے۔
میزبان 2:
اس کا مطلب یہ نہیں کہ کوئی شخص زیادتی کا مستحق ہے۔
اس کا مطلب صرف یہ ہے کہ کچھ لوگوں کو اپنی شناخت، جنس، عمر یا سماجی حیثیت کی وجہ سے اضافی مشکلات برداشت کرنی پڑتی ہیں۔
میزبان 1:
آپ کا تجربہ اہم ہے۔
چاہے آپ:
• شہر میں رہتی ہوں یا گاؤں میں
• جوان ہوں یا بڑی عمر کی
• کسی بھی پس منظر سے تعلق رکھتی ہوں
آپ کے ساتھ جو ہوا، وہ اہم ہے اور اسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔
میزبان 2:
اگر آپ کسی ایسے ملک میں رہتی ہیں جہاں لوگ آپ کے تجربے کو نہیں سمجھتے، اور خاندان بھی ساتھ نہیں دیتا، تو صورتحال اور زیادہ مشکل ہو سکتی ہے۔
ایسے لوگوں کو اکثر دوہری مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے:
• گھر والوں کی طرف سے مدد نہ ملنا
• اور معاشرے یا اداروں کی طرف سے بھی مناسب مدد نہ ملنا
میزبان 1:
اب ہم ان رکاوٹوں کے بارے میں بات کریں گے جو متاثرہ افراد کو مدد حاصل کرنے میں پیش آتی ہیں۔
کیونکہ بدقسمتی سے بعض اوقات مدد مانگنا خود ایک بہت بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔
میزبان 2:
بہت سی خواتین بدنامی اور لوگوں کے ردِعمل کے خوف سے خاموش رہتی ہیں۔
انہیں ڈر ہوتا ہے کہ اگر وہ آواز اٹھائیں گی تو خاندان یا کمیونٹی انہیں سزا دے گی یا ان کے خلاف ہو جائے گی۔
میزبان 1:
ہمارے معاشرے میں اکثر یہ سمجھا جاتا ہے کہ “اچھے خاندان” کے لوگ پولیس یا قانونی اداروں کے پاس نہیں جاتے۔
خاص طور پر جب معاملہ عورتوں یا گھریلو مسائل کا ہو۔
اسی وجہ سے بہت سی خواتین مدد مانگنے سے ہچکچاتی ہیں۔
بعض خواتین نے یہ بھی دیکھا ہے کہ جب انہوں نے مدد مانگی تو:
• ان پر یقین نہیں کیا گیا
• ان کے راز دوسروں کو بتا دیے گئے
• یا انہیں دوبارہ تکلیف کا سامنا کرنا پڑا
کبھی کبھی پولیس یا دوسرے ادارے متاثرہ شخص کی مرضی کے بغیر اس کے خاندان یا ہراسانی کرنے والے شخص سے رابطہ کر لیتے ہیں۔
اس وجہ سے بہت سی خواتین خود کو تنہا محسوس کرتی ہیں اور مدد لینے سے ڈرتی ہیں۔
میزبان 2:
بہت سے متاثرہ لوگ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر تصاویر یا ویڈیوز کی شکایت بھی کرتے ہیں۔
لیکن یہ عمل ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔
اگرچہ شکایت کرنا خفیہ ہو سکتا ہے، لیکن اکثر پلیٹ فارمز فوری کارروائی نہیں کرتے۔
کبھی انہیں جواب ملتا ہے کہ:
“یہ مواد ہماری پالیسی کے خلاف نہیں ہے۔”
یا
“اسے ہٹانے کی ضرورت نہیں ہے۔”
میزبان 1:
متاثرہ شخص اکثر ایک مشکل صورتحال میں پھنس جاتا ہے۔
ایک طرف ثبوت محفوظ رکھنا ضروری ہوتا ہے تاکہ بعد میں شکایت یا قانونی کارروائی کی جا سکے۔
دوسری طرف وہ چاہتا ہے کہ نقصان پہنچانے والا مواد فوراً ہٹا دیا جائے۔
یہ دونوں چیزیں ایک ساتھ کرنا بہت مشکل ہو سکتا ہے۔
میزبان 2:
پلیٹ فارمز اور بعض اداروں کی سست کارروائی کی وجہ سے نقصان اور پریشانی بڑھ سکتی ہے۔
اسی وجہ سے بہت سے لوگ مایوس ہو جاتے ہیں اور شکایت کرنے یا مدد مانگنے کی ہمت کھو دیتے ہیں۔
کچھ لوگ صرف یہ چاہتے ہیں کہ:
• تصاویر یا ویڈیوز ہٹا دی جائیں
• زیادتی کرنے والا جوابدہ ہو
• اور کسی اور کے ساتھ ایسا نہ ہو
میزبان 1:
تصویر یا ویڈیو کے ذریعے ہراسانی انسان کے اپنے جسم اور اپنی شناخت کے بارے میں احساسات کو بھی متاثر کر سکتی ہے۔
جب کسی کی تصویر کو اس کے خلاف استعمال کیا جاتا ہے تو وہ اپنے آپ کو غیر محفوظ محسوس کرنے لگتا ہے۔
کچھ لوگ:
• اپنا انداز بدل لیتے ہیں
• بال بدل لیتے ہیں
• کپڑے بدل لیتے ہیں
• اپنا نام یا سوشل میڈیا پروفائل تبدیل کر لیتے ہیں
صرف اس خوف سے کہ کوئی انہیں پہچان نہ لے۔
میزبان 2:
بعض لوگ آئینے میں دیکھنا بھی پسند نہیں کرتے۔
وہ اپنی ظاہری شکل کے بارے میں بہت زیادہ فکر مند ہو جاتے ہیں۔
کبھی انہیں ایسا لگتا ہے جیسے ان کے جسم نے انہیں دھوکہ دیا ہو۔
میزبان 1:
لیکن حقیقت یہ ہے:
آپ کے جسم نے کوئی غلطی نہیں کی۔
آپ کی قدر اور پہچان ان تصاویر یا ویڈیوز سے متعین نہیں ہوتی جو کسی اور نے شیئر کی ہوں۔
آپ اس زیادتی سے کہیں زیادہ اہم اور قیمتی ہیں۔
میزبان 2:
اپنے جسم، اپنی عزتِ نفس اور اپنی شناخت کے ساتھ دوبارہ اچھا تعلق قائم کرنا شفا کے سفر کا حصہ ہے۔
اس میں وقت لگ سکتا ہے، اور یہ بالکل ٹھیک بات ہے۔
میزبان 1:
بہت سے لوگوں کے لیے تصویری یا ویڈیو ہراسانی کے بعد دوسروں پر دوبارہ اعتماد کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
یہ ایک فطری ردِعمل ہے۔
جب کوئی شخص آپ کی پرائیویسی توڑتا ہے، تو ایسا محسوس ہو سکتا ہے کہ اب کسی پر بھی بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔
میزبان 2:
کچھ لوگ نئے رشتے بنانے سے گھبراتے ہیں۔
وہ سوچتے ہیں:
• لوگ میرے بارے میں کیا سوچیں گے؟
• کیا وہ میری تصاویر تلاش کریں گے؟
• اگر انہیں سچ معلوم ہو گیا تو کیا ہوگا؟
• میں انہیں کب اور کیسے بتاؤں گی کہ میرے ساتھ کیا ہوا تھا؟
یہ سوالات پریشانی اور خوف پیدا کر سکتے ہیں۔
میزبان 1:
لیکن اعتماد دوبارہ قائم کیا جا سکتا ہے۔
آہستہ آہستہ، اپنے وقت پر، اور ان لوگوں کے ساتھ جو اپنے رویے سے ثابت کریں کہ وہ:
• آپ کی عزت کرتے ہیں
• آپ کی حدود کا احترام کرتے ہیں
• اور آپ کے قابلِ اعتماد ہیں
میزبان 2:
اب ہم ایک امید افزا بات کرنا چاہتے ہیں۔
اگرچہ یہ تجربات بہت تکلیف دہ ہو سکتے ہیں، لیکن ہم نے بہت سی ایسی کہانیاں بھی سنی ہیں جن میں لوگوں نے حوصلے، طاقت اور مزاحمت کا مظاہرہ کیا۔
میزبان 1:
بہت سے متاثرہ افراد نے اس سوچ کو قبول کرنے سے انکار کر دیا کہ وہ خود قصوروار ہیں۔
انہوں نے یہ ماننے سے انکار کر دیا کہ دوسروں کے غلط کاموں کی ذمہ داری ان پر ہے۔
میزبان 2:
کچھ لوگوں نے بتایا کہ انہیں ایسے خاندان، دوست یا ساتھی ملے جنہوں نے:
• ان کی بات سنی
• ان پر یقین کیا
• ان کا ساتھ دیا
• اور بغیر فیصلہ کیے مدد کی
ایسی حمایت بہت طاقتور ثابت ہو سکتی ہے۔
میزبان 1:
ہم سب کسی نہ کسی کے لیے محفوظ جگہ بن سکتے ہیں۔
مثلاً:
• کسی دوست کے لیے
• کسی کزن کے لیے
• کسی ساتھی کے لیے
• یا کسی ایسے شخص کے لیے جسے مدد کی ضرورت ہو
ہم ان کی بات سن سکتے ہیں اور انہیں یاد دلا سکتے ہیں:
“یہ تمہاری غلطی نہیں ہے۔”
میزبان 2:
جب ہم دیکھتے ہیں کہ کسی مشہور شخصیت یا عام شخص کی ہراسانی کو تفریح یا تماشہ بنایا جا رہا ہے، تو ہم اس کے خلاف آواز اٹھا سکتے ہیں۔
ہم دوسروں کو بتا سکتے ہیں کہ ہراسانی کبھی بھی مذاق یا تفریح نہیں ہوتی۔
میزبان 1:
یہ سب اس بات کی نشانی ہے کہ تبدیلی ممکن ہے۔
ایک ایسی ثقافت بنائی جا سکتی ہے جس میں:
• ہمدردی ہو
• احترام ہو
• ایک دوسرے کا ساتھ ہو
• اور لوگوں کو طاقت اور اعتماد ملے
میزبان 2:
متاثرہ افراد اپنی آواز بلند کر رہے ہیں۔
وہ نقصان دہ روایات اور خیالات کو چیلنج کر رہے ہیں۔
اور اپنی زندگی اور اپنی کہانی پر دوبارہ اختیار حاصل کر رہے ہیں۔
یاد رکھیں:
آپ اکیلی نہیں ہیں۔
اور آپ بے بس بھی نہیں ہیں۔
میزبان 1:
اب ہم اس بارے میں بات کریں گے کہ معاشرے، اداروں اور قوانین میں کیا تبدیلیاں ضروری ہیں۔
کیونکہ صرف انفرادی شفا کافی نہیں، بلکہ بڑے پیمانے پر تبدیلی بھی ضروری ہے۔
میزبان 2:
متاثرہ افراد اور ماہرین نے کئی اہم تبدیلیوں کی نشاندہی کی ہے۔
سب سے پہلے قانون سازوں اور پالیسی بنانے والوں کے لیے۔
میزبان 1:
قوانین میں ایسی تمام تصاویر کو شامل کیا جانا چاہیے جو کسی شخص کی پرائیویسی یا عزت کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، چاہے وہ برہنہ تصاویر نہ بھی ہوں۔
قانون کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ:
• تصاویر شیئر کرنے کی دھمکی دینا
• تصاویر پھیلانا
• یا تصاویر کے ذریعے کسی کو ڈرانا
یہ سب ہراسانی کی شکلیں ہیں۔
میزبان 2:
کسی بھی قسم کا غیر رضامندانہ مواد شیئر کرنا، اگر اس سے کسی شخص کی عزت، ذہنی سکون، سلامتی یا پرائیویسی متاثر ہوتی ہو، تو اسے جرم سمجھا جانا چاہیے۔
یہ اہم نہیں کہ تصویر میں کیا دکھایا گیا ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ اس سے کسی کو نقصان پہنچا ہے۔
میزبان 1:
پولیس، وکلاء اور ججوں کو بہتر تربیت دی جانی چاہیے تاکہ وہ:
• آن لائن ہراسانی کو سمجھ سکیں
• صنفی مسائل کو سمجھ سکیں
• متاثرہ افراد کے ساتھ ہمدردی اور احترام سے پیش آ سکیں
میزبان 2:
ایسے نظام ہونے چاہئیں جو متاثرہ افراد کی ضروریات کو مرکز میں رکھیں۔
مدد اور شکایات کے عمل:
• تیز رفتار ہوں
• واضح ہوں
• منظم ہوں
• اور ہر ایک کے لیے یکساں کام کریں
میزبان 1:
ٹیکنالوجی کمپنیوں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو بھی تبدیلیاں لانی چاہئیں۔
ان کی پالیسیوں میں یہ تسلیم کیا جانا چاہیے کہ نقصان صرف برہنہ تصاویر سے نہیں ہوتا۔
بعض اوقات عام تصاویر بھی کسی شخص کے لیے بہت نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔
میزبان 2:
لوگوں کو اپنی زبان میں شکایت کرنے کے آسان طریقے ملنے چاہئیں۔
انہیں یہ بھی واضح طور پر بتایا جانا چاہیے کہ:
• شکایت کیسے کرنی ہے
• شکایت کے بعد کیا ہوگا
• اور مدد کہاں سے مل سکتی ہے
میزبان 1:
مواد کی نگرانی کرنے والی ٹیموں اور مصنوعی ذہانت (AI) کے نظاموں کو مختلف ثقافتوں کو سمجھنے کی تربیت دی جانی چاہیے۔
انہیں یہ سمجھنا چاہیے کہ بعض معاشروں میں ایک عام تصویر بھی شدید نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔
میزبان 2:
پلیٹ فارمز کو نقصان دہ مواد ہٹانے کے لیے تیز اور واضح طریقہ کار اپنانا چاہیے۔
انہیں متاثرہ افراد کے ساتھ مل کر ایسے نظام بنانے چاہئیں جن پر لوگ اعتماد کر سکیں۔
میزبان 1:
کمیونٹیز اور سماجی تنظیموں کو بھی آگاہی پھیلانی چاہیے۔
لوگوں کو سمجھانا ضروری ہے کہ تصویری یا ویڈیو ہراسانی صرف جنسی تصاویر تک محدود نہیں ہے۔
میزبان 2:
خواتین اور لڑکیوں کو:
• ڈیجیٹل مہارتیں
• آن لائن حفاظت
• اور انٹرنیٹ کے محفوظ استعمال
کے بارے میں زیادہ معلومات اور وسائل فراہم کیے جانے چاہئیں۔
میزبان 1:
کمیونٹی کی سطح پر ایسے سپورٹ گروپس بھی ہونے چاہئیں جہاں متاثرہ افراد:
• خود کو محفوظ محسوس کریں
• دوسروں سے بات کر سکیں
• جذباتی مدد حاصل کر سکیں
• اور اکیلا محسوس نہ کریں
میزبان 2:
یہ تمام تبدیلیاں ضروری بھی ہیں اور ممکن بھی۔
اگر ہم مل کر کوشش کریں تو ایک محفوظ اور زیادہ انصاف پر مبنی معاشرہ بنایا جا سکتا ہے۔
میزبان 1:
جب ہم معاشرے میں بڑی تبدیلیوں کے لیے کام کر رہے ہیں، تب بھی کچھ چیزیں ایسی ہیں جو آپ اپنی حفاظت اور بھلائی کے لیے کر سکتی ہیں — لیکن صرف اسی وقت جب آپ خود کو تیار محسوس کریں۔
ہماری آن لائن سیفٹی گائیڈ میں اس بارے میں تفصیل موجود ہے، لیکن یہاں چند اہم باتیں بیان کرتے ہیں۔
میزبان 2:
سب سے پہلے “ڈیجیٹل حدود” (Digital Boundaries) کے بارے میں سوچیں۔
یعنی یہ فیصلہ کرنا کہ:
• آپ آن لائن کیا شیئر کرنا چاہتی ہیں
• کس کے ساتھ شیئر کرنا چاہتی ہیں
• اور کیا چیز آپ کے لیے محفوظ محسوس ہوتی ہے
مثال کے طور پر:
• دوستوں سے کہنا کہ آپ کی تصویر پوسٹ کرنے سے پہلے آپ سے پوچھیں
• اپنی پرائیویسی سیٹنگز چیک کرنا
• غیر ضروری نوٹیفکیشن بند کرنا
میزبان 1:
ڈیجیٹل حفاظت بھی اہم ہے۔
اس میں شامل ہو سکتا ہے:
• مضبوط پاس ورڈ استعمال کرنا
• دو مرحلوں والی سیکیورٹی (Two-Factor Authentication) لگانا
• سوشل میڈیا سے وقتی وقفہ لینا
• اپنے اکاؤنٹس کو زیادہ محفوظ بنانا
یہ سب آپ کو آن لائن دنیا میں زیادہ محفوظ محسوس کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
میزبان 2:
کبھی کبھی لوگ آپ پر دباؤ ڈال سکتے ہیں کہ آپ فوراً سوشل میڈیا پر واپس آئیں یا پہلے کی طرح سرگرم ہو جائیں۔
لیکن یاد رکھیں:
آپ کو صرف اسی وقت واپس آنا چاہیے جب آپ خود کو تیار محسوس کریں۔
آپ کو کسی کو جواب دینے یا خود کو ثابت کرنے کی ضرورت نہیں۔
میزبان 1:
ہراسانی کو روکنا آپ کی ذمہ داری نہیں ہے۔
اس کی ذمہ داری صرف ہراسانی کرنے والے شخص پر ہوتی ہے۔
لیکن جب آپ تیار ہوں، تو کچھ اقدامات آپ کو اپنی زندگی پر دوبارہ اختیار محسوس کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
میزبان 2:
اس سیشن کے اختتام سے پہلے ہم چند اہم سچائیاں آپ کو یاد دلانا چاہتے ہیں۔
ایسی سچائیاں جو آپ اپنے ساتھ رکھ سکتی ہیں۔
پہلی بات:
جو کچھ ہوا، وہ آپ کی غلطی نہیں تھی۔
ہراسانی کرنے والے شخص نے آپ کو نقصان پہنچانے کا فیصلہ کیا تھا۔
یہ اس کا انتخاب تھا، آپ کا نہیں۔
میزبان 1:
دوسری بات:
اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ:
• آپ نے کیا پہنا تھا
• آپ کہاں تھیں
• آپ نے کس پر اعتماد کیا
• یا آپ نے کون سی تصاویر شیئر کی تھیں
ان میں سے کوئی بھی چیز ہراسانی کو آپ کی غلطی نہیں بناتی۔
میزبان 2:
تیسری بات:
آپ کے تمام جذبات درست ہیں۔
اگر آپ:
• غصے میں ہیں
• خوفزدہ ہیں
• شرمندہ محسوس کر رہی ہیں
• الجھن میں ہیں
• یا ایک ہی وقت میں کئی جذبات محسوس کر رہی ہیں
تو یہ سب بالکل فطری بات ہے۔
آپ کے جذبات اہم ہیں اور انہیں سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔
میزبان 1:
چوتھی بات:
تصویر یا ویڈیو کے ذریعے ہراسانی ایک حقیقی قسم کی زیادتی ہے۔
اسے چھوٹی بات سمجھ کر نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔
آپ کا تجربہ اہم ہے اور اسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔
میزبان 2:
پانچویں بات:
آپ حمایت، احترام اور تحفظ کی مستحق ہیں۔
آپ اس بات کی مستحق ہیں کہ:
• لوگ آپ پر یقین کریں
• آپ کا ساتھ دیں
• آپ کو محفوظ محسوس کروائیں
نہ کہ آپ کو قصوروار ٹھہرائیں۔
میزبان 1:
چھٹی بات:
شفا (Healing) ممکن ہے۔
شفا کا سفر ہر شخص کے لیے مختلف ہوتا ہے۔
یہ ہمیشہ سیدھا یا آسان نہیں ہوتا، اور اس میں وقت لگ سکتا ہے۔
لیکن وقت کے ساتھ بہتری آ سکتی ہے۔
آپ کو اپنی رفتار سے آگے بڑھنے کا حق ہے۔
میزبان 2:
ساتویں بات:
آپ اکیلی نہیں ہیں۔
بہت سے دوسرے لوگ بھی ایسے تجربات سے گزر چکے ہیں۔
ایسے لوگ موجود ہیں جو:
• آپ کو سمجھتے ہیں
• آپ پر یقین کرتے ہیں
• اور آپ کی مدد کرنا چاہتے ہیں
میزبان 1:
اور آخری بات:
آپ کو اپنی کہانی خود لکھنے کا حق حاصل ہے۔
یہ زیادتی آپ کے ساتھ ہوئی ہے، لیکن یہ آپ کی پوری پہچان نہیں ہے۔
آپ کی زندگی صرف اس ایک واقعے سے متعین نہیں ہوتی۔
آپ اس سے کہیں زیادہ ہیں۔
میزبان 2:
ہم جانتے ہیں کہ بہت سی کمیونٹیز میں ان موضوعات پر کھل کر بات کرنا مشکل ہو سکتا ہے۔
بعض اوقات یہ خطرناک بھی محسوس ہو سکتا ہے۔
اس لیے ہر شخص کو اپنی حفاظت کو ترجیح دینی چاہیے۔
میزبان 1:
اگر اس وقت مدد لینا آپ کے لیے محفوظ محسوس نہیں ہوتا، تو سب سے پہلے اپنی حفاظت کا خیال رکھیں۔
جب آپ خود کو محفوظ محسوس کریں، تب آپ دوبارہ مدد حاصل کرنے یا دستیاب وسائل سے فائدہ اٹھانے کے بارے میں سوچ سکتی ہیں۔
آپ کو اپنے حالات کے مطابق فیصلہ کرنے کا حق ہے۔
میزبان 2:
اگر آپ کو فوری مدد کی ضرورت ہو، تو ایسی تنظیموں سے رابطہ کریں جو تصویروں یا ویڈیوز کے ذریعے ہونے والی ہراسانی اور اس کے اثرات کو سمجھتی ہیں۔
اس سیشن کے ساتھ دی گئی معلومات میں مدد فراہم کرنے والی تنظیموں اور خدمات کی فہرست موجود ہے۔
میزبان 1:
آپ اہم ہیں۔
آپ کی حفاظت اہم ہے۔
آپ کی صحت اور شفا اہم ہے۔
میزبان 2:
آج ہمارے ساتھ وقت گزارنے اور یہ سیشن سننے کا بہت شکریہ۔
میزبان 1:
اختتام سے پہلے، آئیے ایک مختصر “گراؤنڈنگ ایکسرسائز” کرتے ہیں۔
یہ مشق آپ کو پرسکون محسوس کرنے اور موجودہ لمحے میں واپس آنے میں مدد دے سکتی ہے۔
میزبان 2:
اگر آپ کو مناسب لگے تو:
• ایک ہاتھ اپنے دل پر رکھیں۔
• دوسرا ہاتھ اپنے پیٹ پر رکھیں۔
اپنی آنکھیں بند کر لیں یا نظریں نیچی کر لیں۔
میزبان 1:
اپنی سانس پر توجہ دیں۔
محسوس کریں کہ سانس اندر جا رہی ہے اور باہر آ رہی ہے۔
محسوس کریں کہ آپ کا پیٹ سانس کے ساتھ اوپر اور نیچے ہو رہا ہے۔
بس اپنی سانس کو نوٹ کریں۔
میزبان 2:
اب آہستہ سے اپنے آپ سے کہیں:
“میں یہاں موجود ہوں۔”
“میں اکیلی نہیں ہوں۔”
“میرے لیے مدد موجود ہے۔”
ایک اور گہری سانس لیں۔
اور جب آپ تیار ہوں تو آہستہ آہستہ اپنی آنکھیں کھول لیں۔
میزبان 1:
ہمیں آپ پر فخر ہے کہ آپ نے یہ سیشن سنا۔
براہِ کرم اپنا خیال رکھیں۔
یہ مختصر سیشن ہمارے تفصیلی “بلوم کورس” پر مبنی تھا، جس کے بارے میں مزید معلومات ہماری ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔
میزبان 2:
جب تک ہم دوبارہ ملیں، ہم آپ کے لیے سکون، حفاظت اور شفا کی دعا کرتے ہیں۔